Handmade quality · Free shipping over $75 · Explore the atelier

Guerrilla Jang گوریلا جنگ Kuliyaat zooq خلفائے راشدین اور حضرت عمر

SKU: 92373345834

4.4
USD250.00 USD284.00

Pay in 4 interest-free payments of $62.50 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 28 - Aug 2

Description

خلفائے راشدین اور حضرت عمر بن عبد العزیز کےبعد جن مسلمان حکمرانوں کی عظمت کردار نے آسمان کی رفعتوں کو چھو لیا ان میں ملک العادل سلطان نورالدین محمود زندگی کا نام نامی امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی عظمت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ ہردور کے مورخ ،دوست اوردوشمن سبھی نے اسکی شہرتِ عام اور بقائے دوام کےدربار میں نمایاں جگہ دی ہے۔بعض مورخین نےخلفائے راشدینؓ کےبعد تمام فرماں روایان اسلام میں اس کوسب سےبہتر قرار دیا ہے ۔سلطان نور الدین زنگی سلطنت کے بانی عماد الدین زنگی کا بیٹا تھا عماد الدین زنگی سلجوقی حکومت کی طرف سے شہر موصل کا حاکم تھا۔ جب سلجوقی حکومت کمزور ہوگئی تو اس نے زنگی سلطنت قائم کرلی اورعیسائیوں کو شکستوں پر شکستیں دیں جس نے تاریخ میں بڑا نام پیدا کیا۔ نور الدین فروری 1118ء میں پیدا ہوا اور 1146ء سے 1174ء تک 28سال حکومت کی۔اس نے عیسائیوں سے بیت المقدس واپس لینے کے لیے پہلے ایک مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گرد و نواح کی چھوٹی چھوٹی مسلمان حکومتوں کو ختم کرکے ان کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا۔مصر پر قبضہ کرنے کے بعد نورالدین نے بیت المقدس پر حملہ کرنے کی تیاریاں شروع کردیں۔ بیت المقدس کی مسجد عمر میں رکھنے کے لیے اس نے اعلیٰ درجے کا منبر تیار کروایا۔ اس کی خواہش تھی کہ فتح بیت المقدس کے بعد وہ اس منبر کو اپنے ہاتھوں سے رکھے گا لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا۔ نورالدین ابھی حملے کی تیاریاں ہی کررہا تھا کہ زنگی کو حشیشین نے زہر دیا۔جس سے ان کے گلے میں سوزش پیدا هو گئی جو کہ ان کی موت کا باعث بنی15 مئی 1174ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کے وقت نورالدین کی عمر 58سال تھی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سلطان نورالدین زنگی ‘‘ معروف سوانح نگار اور ادیب محترم طالب ہاشمی کی تصنیف ہے ۔ جس نے انہوں چھٹی صدر ہجری کے مجاہد ِ اعظم نورالدین زنگ کی شخصیت ،حیات وخدمات اور ان کے جنگی کارناموں کو بڑے دلنشیں انداز میں بیان کیا۔ جو یقینا تاریخ کے طالب علم کےلیے لائق مطالعہ ہے

اس کتاب میں بہت سے ایسے حقائق موجود ہیں جو آج تک عوام کی نظروں سے اوجھل رکھے گئے

الحاد مغرب اور ہم مصنف ڈاکٹر غلام جیلانی برق

"ایوان صدر میں سولہ سال" از ایم بی۔ خالد سولہ سال کے عرصے میںپاکستان کی صدارت کے سیاسی اور انتظامی منظر نامے کا تفصیلی بیان فراہم کرتے ہیں۔

کتاب ’شمع رسالت کے تیس پروانے‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک اہم کتاب ہے جس میں محترم مصنف نے 30 صحابہ کرام کے حالات کو بیانیہ انداز میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب میں جو حالات زندگی پیش کیے گئے ہیں ان میں سے بیشتر مضامین مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی افادیت کے پیش نظر انھیں استفادہ خواص و عوام کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ مصنف نے کتاب میں سادہ اور عام فہم زبان استعمال کی ہے اور ان کا اسلوب نگارش نہایت دلچسپ ہے۔ ان نفوس قدسیہ کے حالات زندگی پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ شان استقامت و عزیمت کیا ہے۔ قارئین یقیناً ان مردان حق کے تذکرے پڑ ھ کر ایمان کی تازگی محسوس کریں گے اور ان نفوس قدسیہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق نصیب ہو گی

Guerrilla Jang گوریلا جنگ Kuliyaat zooq خلفائے راشدین اور حضرت عمر

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products